صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۶ - نرمی اور بدزبانی سے بچاؤ
بدزبانی سے بچنے کے لیے لوگ جسے چھوڑ دیں
صحیح مسلم : ۶۵۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۹۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ، أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ : " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ ، أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ " .
عائشہ روایت:
ایک شخص نے اجازت مانگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت دو اس کو برا شخص ہے اپنے کنبہ میں۔“ جب وہ اندر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے باتیں کیں نرمی سے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو اس کو ایسا فرمایا تھا، پھر اس سے باتیں کیں نرمی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت میں وہ ہو گا جس کو لوگ رخصت کریں یا چھوڑ دیں اس کی بدگمانی کی وجہ سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت بات فرمائی، پھر جب وہ اندر آیا تو اس سے نرمی سے گفتگو کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین درجے کا شخص وہ ہو گا جسے لوگ اس کی بدزبانی یا سختی کے ڈر سے چھوڑ دیں۔ اس حدیث میں نرمی سے بات کرنا، بدزبان شخص، لوگوں کا بچنا، اور اچھے اخلاق جیسے سرچ موضوعات آتے ہیں۔ متن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ کسی کے برے پہلو کو جانتے ہوئے بھی گفتگو میں نرمی رکھی جا سکتی ہے۔ مگر اصل ڈر یہ ہے کہ انسان اتنا بدزبان نہ بن جائے کہ لوگ اس کے فحش کلام یا سختی سے بچنے کے لیے اسے چھوڑ دیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی سختی معلوم ہونے کے باوجود نرم گفتگو ممکن ہے۔
- بدزبانی انسان کو لوگوں سے دور کر سکتی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فحش کلامی سے بچنے کا سخت انجام بتایا۔
- لوگوں کا کسی کو اس کی بدزبانی کے ڈر سے چھوڑنا بہت بری علامت ہے۔
