صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۷ - علم اٹھنے اور جہالت پھیلنے کی نشانی
علم اٹھ جانے کی حدیث: قیامت کی نشانیوں کی واضح یاد دہانی
صحیح مسلم : ۶۷۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ ، وَعَبْدَةَ : لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے همان مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے وہ بات نقل ہوئی ہے جس میں قیامت کی نشانیوں کا ذکر ہے: علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو گا، شراب پی جائے گی، اور مرد کم ہو جائیں گے۔ “علم اٹھ جانے کی حدیث” ہمیں سمجھاتی ہے کہ علم صرف معلومات کا نام نہیں، بلکہ دین کو پہچاننے اور گناہ سے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب علم کم اور جہالت زیادہ ہو تو معاشرے میں غلط چیزیں آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔ چونکہ اس روایت میں ترجمہ سابقہ حدیث جیسا ہے، اس لیے اس کا مرکزی سبق بھی وہی ہے: دینی علم کی قدر، گناہ سے بچاؤ اور آخرت کی فکر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں علم کے اٹھنے کو قیامت کی نشانی بتایا گیا ہے۔
- جہالت پھیلنے سے گناہوں کا ظاہر ہونا آسان ہو جاتا ہے۔
- شراب اور زنا کا ذکر اسی متن میں واضح طور پر آیا ہے۔
- ایسی روایات مسلمان کو اپنی دینی حالت دیکھنے کی دعوت دیتی ہیں۔
