صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۸ - ہرج یعنی کشت و خون کا بڑھنا
ہرج کا مطلب حدیث: قیامت سے پہلے قتل و خون کا بڑھنا
صحیح مسلم : ۶۷۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ " .
عبداللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے کچھ دن ایسے ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا اور جہالت اترے گی اور کشت و خون بہت ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قیامت سے پہلے آنے والے دنوں کا ذکر فرمایا جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت اترے گی اور ہرج بہت ہو گا۔ اسی حدیث میں ہرج کی وضاحت “قتل” یعنی کشت و خون سے کی گئی ہے۔ “ہرج کا مطلب حدیث” تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت صاف جواب دیتی ہے۔ اس میں قیامت کی نشانیوں کو کسی لمبی فہرست کے طور پر نہیں، بلکہ تین نمایاں باتوں کے طور پر بیان کیا گیا: علم کی کمی، جہالت کا پھیلنا اور قتل و خون کی کثرت۔ اس کا عملی پیغام یہ ہے کہ مسلمان علم سے جڑے، جہالت سے بچے اور خونریزی جیسے سنگین فتنے کو معمولی نہ سمجھے۔ حدیث کا لہجہ خبر اور تنبیہ دونوں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہرج کا مطلب اس حدیث میں قتل بیان کیا گیا ہے۔
- علم کا اٹھنا اور جہالت کا اترنا قیامت سے پہلے کی نشانیوں میں ہے۔
- کشت و خون کا بڑھنا بہت سنگین دینی اور معاشرتی فتنہ ہے۔
- مسلمان کو علم، امن اور جان کی حرمت کا خیال رکھنا چاہیے۔
