صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۹ - علم کی کمی اور قتل کی کثرت
قیامت سے پہلے قتل کی کثرت: ہرج والی حدیث کی سمجھ
صحیح مسلم : ۶۷۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ ، وَابْنِ نُمَيْرٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۹ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے کہ قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت اترے گی اور ہرج بہت ہو گا۔ پچھلی روایت میں ہرج کی وضاحت قتل سے کی گئی ہے، اس لیے “قتل بڑھنے کی حدیث” اور “ہرج کا مطلب” دونوں تلاش کرنے والے اس مضمون سے فائدہ لیتے ہیں۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ حدیث نے علم اور امن کو ایک ساتھ متوجہ کیا: جب علم کم ہو اور جہالت بڑھے تو فساد اور خونریزی بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس متن کی بنیاد پر مسلمان کے لیے سبق یہ ہے کہ علم سیکھنا، ناحق خون سے بچنا اور فتنے کے زمانے میں سنجیدگی اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت علم کے اٹھنے اور جہالت کے اترنے کا ذکر کرتی ہے۔
- ہرج کا تعلق قتل اور کشت و خون سے بتایا گیا ہے۔
- فتنوں کے زمانے میں دینی سمجھ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
- انسانی جان کی حرمت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
