صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۳ - گناہ، استغفار اور مغفرت
استغفار کی حدیث: گناہ کے بعد اللہ سے بخشش مانگنا
صحیح مسلم : ۶۹۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۶۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّهُ قَالَ : حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ " .
ابوایوب انصاری روایت:
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب ان کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے کہا: میں نے ایک حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنی تھی تم سے چھپایا تھا (مصلحت سے کہ لوگ اس پر تکیہ نہ کریں اور گناہ سے بے ڈر نہ ہو جائیں) میں نے سنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اگر تم گناہ نہ کر البتہ اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا کرے جو گناہ کریں (پھر بخشش مانگیں) اللہ تعالیٰ ان کو بخشے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۳ کا خلاصہ
یہ استغفار کی حدیث انسان کو اپنے رب سے تعلق سمجھاتی ہے۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وفات کے قریب ایک حدیث بیان کی کہ اگر لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ ایسی مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتی، پھر بخشش مانگتی، اور اللہ انہیں بخش دیتا۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ کو ہلکا سمجھا جائے۔ متن میں جو بات آئی ہے وہ یہ ہے کہ بندے سے غلطی ہو سکتی ہے، مگر اسے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ گناہ کے بعد اکڑنا نہیں، بلکہ استغفار کرنا چاہیے۔ اس میں اللہ کی مغفرت کا ذکر ہے اور بندے کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ اللہ سے بخشش مانگنا بہت اہم عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، مگر اسے معافی مانگنی چاہیے۔
- گناہ پر اصرار کے بجائے استغفار کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ بخشش مانگنے والوں کو بخش دیتا ہے۔
- حدیث گناہ کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ مغفرت کی طرف بلاتی ہے۔
