صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۴ - اللہ کے ڈر سے بخشش

خوفِ الٰہی کی حدیث: جب بندہ اپنی کمی مان لیتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۸۴

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا ، فَقَالَ لِوَلَدِهِ : لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ أَوْ لَأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَكُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ ، فَأَحْرِقُونِي وَأَكْثَرُ عِلْمِي ، أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ ، فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ، وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَيَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّي ، فَقَالَ اللَّهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ ، فَقَالَ مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا " ،

ابو سعید خدری روایت:

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حدیث بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد دیا تھا۔ اس نے اپنی اولاد سے کہا: تم وہ کام کرنا جو میں حکم دیتا ہوں ورنہ میں اپنے مال کا وارث اور کسی کو کر دوں گا، جب میں مر جاؤں تو مجھ کو جلانا اور مجھ کو بہت یاد ہے کہ یہ بھی کہا: پھر پیسنا اور ہوا میں اڑا دینا کیونکہ میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی آگے نہیں بھیجی اور اللہ مجھ پر قدرت پائے گا، تو مجھ کو عذاب کرے گا، پھر اس نے اس بات کا اقرار اپنی اولاد سے لیا۔انہوں نے ایسا ہی کیا (جب وہ مر گیا) میرے رب کی قسم! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بولا: تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اس کو اور کچھ عذاب نہ دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جسے اللہ نے مال اور اولاد دی تھی۔ موت کے وقت اس نے اپنی اولاد سے سختی سے کہا کہ میری بات ضرور ماننا۔ اس نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا دیا جائے، پھر پیس کر ہوا میں اڑا دیا جائے۔ اس نے صاف کہا کہ میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی آگے نہیں بھیجی، اور اگر اللہ نے مجھ پر قدرت پائی تو مجھے عذاب دے گا۔ اولاد نے اس کی وصیت پوری کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا: تیرے ڈر سے۔ حدیث کے آخر میں آتا ہے کہ اللہ نے اسے اس خوف کے علاوہ کسی اور چیز سے نہ پکڑا۔ یہ روایت بندے کو اپنی کمی ماننے اور اللہ سے ڈرنے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال اور اولاد ہونا نجات کی ضمانت نہیں، اصل معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔
  • اپنی کمی کا اعتراف بندے کو اللہ کے سامنے جھکاتا ہے۔
  • اللہ کا خوف بندے کے معاملے میں رحم کا سبب بن سکتا ہے۔
  • اولاد نے وصیت پوری کی، مگر اصل فیصلہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں