سنن نسائی حدیث ۲۷۴ - حائضہ کی گود میں تلاوت
حائضہ کی گود میں قرآن تلاوت کی حدیث
سنن نسائی : ۲۷۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِالْخُمْرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ " .
میمونہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے (مسجد میں) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۴ کا خلاصہ
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے، جبکہ وہ حائضہ ہوتی۔ روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے بچھا دیتی، جبکہ وہ حائضہ ہوتی۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ حیض عورت کے پورے جسم یا اس کے قرب کو ناپاک نہیں بناتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر حائضہ کی گود میں ہونا اور تلاوت کرنا اس غلط فہمی کو دور کرتا ہے کہ حائضہ عورت سے ہر طرح کا تعلق ختم کر دیا جائے۔ البتہ روایت میں جو عمل ہے، بات اسی تک محدود رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کی گود میں سر رکھنا روایت میں آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں قرآن کی تلاوت فرمائی۔
- حیض کو عورت کے پورے جسم کی نجاست نہیں سمجھنا چاہیے۔
- مسجد کے معاملے میں روایت کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
