صحیح بخاری حدیث ۲۹۷ - حیض میں گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھنا
حیض میں قربت: نبی صلى الله عليه وسلم کا عائشہؓ کی گود میں قرآن پڑھنا
صحیح بخاری : ۲۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، سَمِعَ زُهَيْرًا ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے تھے، حالانکہ وہ اس وقت حیض والی ہوتی تھیں۔ روایت کا مطلب اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایسی جائز قربت میں کوئی نجاست کا تصور نہیں دکھایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھ رہے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی حالت میں تھیں۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حیض عورت کو اس طرح ناپاک نہیں بنا دیتا کہ اس کے قریب بیٹھنا یا اس کی گود میں سر رکھنا منع ہو۔ یہ روایت حیض، قربت، قرآن پڑھنے اور حائضہ عورت کی پاک حیثیت کے موضوعات سے تعلق رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کے قریب بیٹھنا یا جائز قربت رکھنا منع نہیں بتایا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عائشہؓ کی گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھا۔
- حیض کی حالت عورت کو بذات خود نجس نہیں بناتی۔
- حدیث کو اسی عمل تک محدود سمجھنا چاہیے جو متن میں بیان ہوا ہے۔
