سنن نسائی حدیث ۲۷۵ - حائضہ کی گود میں قرآن پڑھنا
حائضہ کی گود میں سر رکھ کر تلاوت
سنن نسائی : ۲۷۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۵
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : " كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۵ کا خلاصہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم بیویوں میں سے کسی کی گود میں ہوتا، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے۔ یہ حدیث حیض کے بارے میں پائی جانے والی ایک عام غلط سوچ کو درست کرتی ہے۔ حیض عبادت کے بعض احکام سے متعلق حالت ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کا قرب یا اس کی گود ناپاک ہو گئی۔ روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بہت واضح ہے: سر گود میں ہے اور تلاوت قرآن جاری ہے۔ اس سے حائضہ عورت کے احترام، گھریلو محبت اور پاکیزہ تعلق کا سبق ملتا ہے، لیکن توضیح کو حدیث کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کی گود کو ناپاک نہیں سمجھا گیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں قرآن کی تلاوت فرمائی۔
- حیض کے احکام کو عورت کی عزت کم کرنے کا سبب نہ بنایا جائے۔
- گھریلو تعلق میں نرمی اور محبت باقی رہتی ہے۔
