سنن نسائی حدیث ۲۹۲۴ - نذر میں تکلیف دہ عمل کی اصلاح
نذر کے نام پر تکلیف دینا درست نہیں
سنن نسائی : ۲۹۲۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۲۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ ذَكَرَهُ فِي نَذْرٍ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَطَعَهُ ، قَالَ : " إِنَّهُ نَذْرٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے (باندھ کر) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: ”یہ نذر ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ ہے جسے ایک آدمی کسی چیز سے باندھ کر کھینچ رہا تھا، اور وہ چیز نذر میں ذکر کی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا۔ روایت کے الفاظ میں آیا کہ یہ نذر تھی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نذر یا عبادت کے نام پر ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا جس میں انسان کو بے جا مشقت یا اذیت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر دکھایا کہ عبادت میں ادب، آسانی اور انسان کی عزت کا خیال رہے۔ یہ حدیث نذر کی حدود، طواف کے آداب اور دین میں غیر ضروری سختی سے بچنے کی صاف تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نذر کے نام پر تکلیف دہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- عبادت میں انسان کی عزت اور آسانی کا خیال رکھا جائے۔
- غلط طریقہ سامنے آئے تو اسے حکمت کے ساتھ درست کرنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر کے معاملے میں بھی تکلیف کو پسند نہیں فرمایا۔
