سنن نسائی حدیث ۲۹۶۹ - صفا مروہ کی سعی سنت ہے
صفا اور مروہ کی سعی سنت نبوی ہے
سنن نسائی : ۲۹۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۶۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَاب الَّذِي يُخْرَجُ مِنْهُ ، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " , قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : سُنَّةٌ .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس دروازے سے باہر نکلا جاتا ہے، تو صفا و مروہ کی سعی کی۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سنت ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے۔ پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس سے باہر نکلا جاتا ہے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ روایت کے آخر میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سنت ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع صفا مروہ کی سعی اور اس کی نبوی ترتیب ہے۔ یہاں طواف، نماز، صفا کی طرف نکلنا، اور پھر سعی ایک واضح ترتیب میں آتے ہیں۔ حج و عمرہ کے طریقہ کو سمجھنے میں یہ روایت بہت سیدھی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ آ کر بیت اللہ کے سات پھیرے کیے۔
- طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔
- نماز کے بعد صفا و مروہ کی سعی کی گئی۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عمل کو سنت کہا۔
