سنن نسائی حدیث ۲۹۷۶ - صفا پر تہلیل اور دعا
صفا پر لا الہ الا اللہ اور دعا کا نبوی عمل
سنن نسائی : ۲۹۷۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۷۶
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ " وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا ، يُهَلِّلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ " .
ابو جعفر بن محمد الباقر روایت:
´ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ سے سنا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو جعفر بن محمد الباقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سنا۔ روایت میں آیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے، اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے اور اس کے درمیان دعا کرتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع صفا پر تہلیل اور دعا ہے۔ تہلیل سے مراد اللہ کی وحدانیت کا ذکر ہے، جیسے لا الہ الا اللہ کہنا۔ حدیث میں صفا پر رکنے، اللہ کو یاد کرنے، اور دعا کرنے کا عمل بیان ہوا ہے۔ یہ روایت سعی کے روحانی پہلو کو آسان لفظوں میں سمجھاتی ہے کہ صفا پر صرف کھڑا ہونا نہیں، بلکہ اللہ کا ذکر اور دعا بھی نبوی عمل کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے تھے۔
- صفا پر اللہ عزوجل کی تہلیل کی جاتی تھی۔
- تہلیل کے درمیان دعا بھی کی جاتی تھی۔
- سعی کے دوران اللہ کا ذکر روایت میں واضح طور پر آیا ہے۔
