سنن نسائی حدیث ۲۹۷۷ - طواف، مقام ابراہیم اور سعی

طواف سے سعی تک حج کا نبوی عمل

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۷۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا : رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَاسْتَلَمَ ، ثُمَّ ذَهَبَ , فَقَالَ : " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا ، فَرَقِيَ عَلَيْهَا ، حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، وَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا ، حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ ، ثُمَّ مَشَى ، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ ، فَصَعِدَ فِيهَا ، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ ، وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ " .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اور (پڑھتے وقت) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر (صفا کی طرف) گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی (سعی) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح (ہر بار) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہو گئے۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور آیت بلند آواز سے پڑھی تاکہ لوگ سن لیں۔ اس کے بعد حجر اسود کا استلام کیا، پھر صفا کی طرف گئے اور فرمایا کہ ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا۔ صفا پر چڑھ کر بیت اللہ دیکھا، توحید کے کلمات تین بار پڑھے، تکبیر اور حمد کی، پھر دعا کی۔ مروہ پر بھی اسی طرح کیا، یہاں تک کہ سعی مکمل ہوئی۔ یہ حدیث طواف، رمل، مقام ابراہیم، حجر اسود، صفا مروہ اور دعا کو ایک ترتیب میں بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طواف کے سات پھیروں میں تین رمل اور چار عام چال بیان ہوئی۔
  • طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی گئی۔
  • حجر اسود کا استلام کر کے صفا سے سعی شروع کی گئی۔
  • صفا اور مروہ پر ذکر، تسبیح، حمد اور دعا کی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں