سنن نسائی حدیث ۲۹۷۸ - سواری پر طواف اور سعی
حجۃ الوداع میں سواری پر طواف اور سعی کی وجہ
سنن نسائی : ۲۹۷۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۷۸
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ ، وَلِيُشْرِفَ ، وَلِيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، (اور ایسا اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ حدیث میں وجہ بھی بیان ہوئی ہے: تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، آپ لوگوں سے اونچے رہیں، اور لوگ مسائل پوچھ سکیں؛ کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر لیا تھا۔ اس روایت کا اصل موضوع حج کی تعلیم ہے۔ یہاں سواری پر طواف اور سعی کا ذکر صرف عمل کے طور پر نہیں، بلکہ لوگوں کو سکھانے اور سوالات کے جواب دینے کے لیے بھی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے اعمال لوگوں کے سامنے ادا کیے تاکہ وہ آپ کا طریقہ سمجھ سکیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر طواف کیا۔
- صفا مروہ کی سعی بھی سواری پر بیان ہوئی۔
- حدیث میں وجہ بیان ہے کہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور سوال کر سکیں۔
- لوگوں کے گھیر لینے کی وجہ سے آپ کا اونچا ہونا فائدہ مند تھا۔
