سنن نسائی حدیث ۲۹۷۹ - سعی میں چلنا اور دوڑنا
صفا مروہ کی سعی میں چلنے اور دوڑنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۹۷۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۷۹
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَقَالَ : " إِنْ أَمْشِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى " .
کثیر بن جمہان روایت:
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں کثیر بن جمہان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا اور مروہ کے درمیان عام چال چلتے دیکھا۔ جب بات ہوئی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سعی کی چال ہے۔ روایت یہ بتاتی ہے کہ صفا مروہ کے درمیان سعی میں چلنا بھی آیا ہے اور دوڑنا بھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدہ سے جوڑا، اس لیے حدیث عملی سنت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سعی میں عام چال کا ذکر کیا۔
- انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا تھا۔
- انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
- سعی کی چال کو نبوی عمل سے سمجھایا گیا۔
