سنن نسائی حدیث ۲۹۸۰ - بڑھاپے میں سعی کی چال
بڑھاپے میں صفا مروہ کی سعی کا واقعہ
سنن نسائی : ۲۹۸۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۸۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " .
سعید بن جبیر روایت:
میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں (میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے)۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۸۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، پھر راوی نے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اس حدیث کا اصل موضوع سعی میں چال اور عمر کی حالت ہے۔ پچھلی روایت کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے اور دوڑنے دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے جوڑا تھا۔ یہاں بڑھاپے کا ذکر بتاتا ہے کہ وہ عام چال چلنے کی وجہ بیان کر رہے تھے۔ حدیث سے صرف اتنا سمجھا جاتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی عمر اور جسمانی حالت کا ذکر کیا، اور اپنے عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدہ کے ساتھ بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سعی میں عام چال کا واقعہ نقل ہوا۔
- اس روایت میں ان کے بڑھاپے کا ذکر بھی ہے۔
- انہوں نے اپنی حالت کو بیان کیا، اس سے زائد حکم روایت میں نہیں۔
- سعی کے عمل میں صحابہ نبوی طریقہ کو سامنے رکھتے تھے۔
