سنن نسائی حدیث ۲۹۸۱ - صفا مروہ کے درمیان رمل
صفا مروہ کے درمیان رمل کے بارے میں ابن عمر کا جواب
سنن نسائی : ۲۹۸۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۸۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَقَالَ : " كَانَ فِي جَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ ، فَرَمَلُوا فَلَا أُرَاهُمْ رَمَلُوا إِلَّا بِرَمَلِهِ " .
زہری روایت:
لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے، اس لیے وہ خود صاف طور پر دیکھ نہ سکے۔ پھر انہوں نے کہا کہ لوگوں نے رمل کیا، اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رمل کی وجہ سے ہی رمل کیا۔ اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی احتیاط بھی نظر آتی ہے۔ انہوں نے جہاں براہ راست مشاہدہ نہ تھا، وہاں بات کو اندازے کے طور پر بیان کیا۔ حدیث کا مرکزی موضوع صفا مروہ کے درمیان رمل اور صحابی کی امانت دارانہ وضاحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صفا مروہ کے رمل کے بارے میں سوال کیا گیا۔
- انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی جماعت میں تھے۔
- انہوں نے اپنے براہ راست نہ دیکھنے کو واضح کیا۔
- لوگوں کے رمل کو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رمل کی پیروی سمجھا۔
