سنن نسائی حدیث ۳۰۴۵ - عرفات سے آ کر حج مکمل
عرفات سے مزدلفہ آ کر حج مکمل ہونے کی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۴۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۴۵
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ : هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ :" مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا ، وَوَقَفَ هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ ، وَأَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ " .
عروہ بن مضرس روایت:
میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۴۵ کا خلاصہ
اس روایت میں عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میرا حج ہوا؟ جواب میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص ہمارے ساتھ یہ فجر کی نماز پڑھے، اس مقام پر واپسی تک ٹھہرے، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا ہو، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا۔ یہ حدیث حج کے اعمال کو بہت صاف طریقے سے بیان کرتی ہے۔ اس میں مزدلفہ کا قیام، فجر کی نماز، عرفات سے افاضہ اور حج کی تکمیل ایک ساتھ ذکر ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹنا اس روایت میں کافی بتایا گیا ہے۔
- مزدلفہ میں فجر پڑھنا اور وہاں ٹھہرنا اہم عمل ہے۔
- حج کی تکمیل مخصوص اعمال کے پورا کرنے سے وابستہ ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کا جواب صاف اور عملی انداز میں دیا۔
