سنن نسائی حدیث ۳۰۴۶ - تھکے حاجی کے حج کا حکم
عرفہ پہنچنے والے حاجی کا حج مکمل ہونے کا حکم
سنن نسائی : ۳۰۴۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۴۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي ، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي مَا بَقِيَ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ هَا هُنَا مَعَنَا وَقَدْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ ، وَتَمَّ حَجُّهُ " .
عروہ بن مضرس طائی روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہو چکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آ چکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ اپنی مشقت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا، سواری بھی تھک گئی اور میں خود بھی بہت تھک گیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ نے فرمایا کہ جس نے یہاں ہمارے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اس سے پہلے عرفہ آ چکا ہو، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا اور اس کا حج پورا ہو گیا۔ اس روایت میں حج کی تکمیل کے لیے مشقت کے بیان کے ساتھ اصل شرط کو واضح کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ مشقت کا ذکر آیا، مگر حکم مقررہ اعمال کے مطابق بتایا گیا۔
- عرفہ آنا اور مزدلفہ میں فجر پڑھنا اس روایت کا مرکزی حکم ہے۔
- حاجی کو اپنے عمل کے بارے میں پوچھ کر اطمینان حاصل کرنا چاہیے۔
- حج کی تکمیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اصل معیار ہے۔
