سنن نسائی حدیث ۶۱۶ - نیند میں تقصیر نہیں

سو کر نماز رہ جائے تو کیا کرے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۶۱۶

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قال : ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .

ابوقتادہ روایت:

لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے“، تقصیر (کمی) تو جاگنے میں ہے (کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے)، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے“۔

سنن نسائی حدیث ۶۱۶ کا خلاصہ

یہ حدیث نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے اور جاگتے ہوئے کوتاہی کرنے میں فرق واضح کرتی ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں سے سو جانے کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیند کی حالت میں تقصیر نہیں، تقصیر جاگنے میں ہے۔ پھر فرمایا کہ جب کوئی نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے۔ اس روایت میں دو باتیں بہت صاف ہیں: نیند بذات خود الزام نہیں، اور یاد آنے پر نماز ادا کرنا ضروری عمل ہے۔ “سو کر نماز رہ جائے” کا مسئلہ اکثر لوگوں کے دل میں پریشانی پیدا کرتا ہے۔ یہ حدیث اس پریشانی کو صحیح رخ دیتی ہے: کوتاہی اس وقت ہے جب آدمی جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیند کی حالت میں نماز رہ جانا جاگتے ہوئے چھوڑنے جیسا نہیں۔
  • تقصیر اس شخص کی ہے جو جاگتے ہوئے نماز نہ پڑھے۔
  • بھولی ہوئی یا نیند سے رہ گئی نماز یاد آنے پر پڑھی جائے۔
  • حدیث میں رحمت اور ذمہ داری دونوں پہلو موجود ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں