سنن نسائی حدیث ۶۱۷ - جاگتے ہوئے نماز مؤخر کرنا تقصیر
نیند نہیں، جاگتے ہوئے غفلت تقصیر ہے
سنن نسائی : ۶۱۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۶۱۷
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِيمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا " .
ابوقتادہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے، تقصیر (کمی) تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جس وقت اسے اس کا ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہو جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۶۱۷ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند اور جاگنے کی حالت کا فرق مزید واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ نیند میں کوئی تقصیر نہیں، تقصیر اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جب اسے ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل کوتاہی وہ ہے جب آدمی ہوش میں ہو، نماز کا وقت معلوم ہو، پھر بھی نماز کو مؤخر کرتا رہے۔ حدیث کا موضوع وقت پر نماز اور غفلت دونوں سے جڑا ہے۔ یہ روایت قاری کو نرمی کے ساتھ خبردار کرتی ہے کہ نیند سے رہ جانے کا حکم الگ ہے، مگر جاگتے ہوئے نماز کو نظر انداز کرنا خطرناک کوتاہی ہے۔ یہاں ہمیں متن کے مطابق بات کرنی چاہیے: حدیث نے نیند کو معذوری کے طور پر الگ کیا اور جاگتی غفلت کو تقصیر کہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیند کی حالت کو حدیث نے تقصیر نہیں کہا۔
- جاگتے ہوئے نماز کو چھوڑنا یا اتنا مؤخر کرنا بڑی کوتاہی ہے۔
- نماز کے وقت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- حدیث غفلت اور معذوری میں فرق بتاتی ہے۔
