قیامت کے دن نجات
کل احادیث 5
قیامت کے دن مومنوں کی نجات اور مغفرت سے متعلق مستند احادیث
ان مبارک احادیث میں قیامت کے دن مسلمانوں کی نجات اور اللہ تعالی کی عظیم رحمت و مغفرت کا تذکرہ نہایت آسان اور دلنشین انداز میں کیا گیا ہے۔ احادیث کے مطابق، قیامت کے دن اللہ تعالی مومن بندوں پر خاص کرم فرمائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی ہے کہ ہر مسلمان کو جہنم کے عذاب سے چھٹکارا دیا جائے گا۔ بعض مسلمان قیامت کے دن پہاڑوں جیسے بڑے گناہ لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما دے گا۔ اس کے علاوہ، اللہ تعالی مومن بندے کو اپنے قریب کر کے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا اور فرمائے گا کہ دنیا میں بھی میں نے تمہارے عیب چھپائے تھے اور آج بھی میں انہیں بخش دیتا ہوں، جس کے بعد مومن کو اس کی نیکیوں کی کتاب دی جائے گی۔ اسلامی علماء کے مطابق یہ احادیث اہل ایمان کے لیے نجات کی ایک بہت بڑی بشارت ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " ، قَالَ : فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَلَفَ لَهُ ، قَالَ : فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ ،
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایتے ہے، عون اور سعید بن ابی بردہ اس وقت موجود تھے جب ابوبردہ نے عمر بن عبدالعزیز سے حدیث بیان کی اپنے باپ (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان نہیں مرے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرے گا۔“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ابوبردہ کو قسم دی کہ کیا تیرے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تجھے بیان کیا ہے؟ انہوں نے قسم اٹھائی۔ (عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ابوبردہ کو قسم دی مزید اطمینان کے لیے کیونکہ اس حدیث میں بشارت عظیم ہے مومنوں کے لیے۔ شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث سے مسلمانوں کو بڑی امید ہے)۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ ، وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ .
ابوقتادہ سے اس سند کے ساتھ عفان کی روایت کی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا ، فَيَقُولُ : هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی دے گا اور فرما دے گا: یہ تیرا چھٹکارا ہے جہنم سے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ ، فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ ، وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا " ، قَالَ أَبُو رَوْحٍ : لَا أَدْرِي مِمَّنْ الشَّكُّ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ : أَبُوكَ حَدَّثَكَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ .
ابوبردہ روایت:
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان گناہوں کو یہود اور نصاریٰ پر ڈال دے گا۔“
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ ، فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُ ؟ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَعْرِفُ ، قَالَ : فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ " .
صفوان بن محرز روایت:
ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے سرگوشی کے باب میں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ جو قیامت کے دن اپنے بندہ سے سرگوشی کرے گا) انہوں نے کہا: میں نے آپ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مؤمن قیامت کے دن اپنے مالک کے پاس لایا جائے گا یہاں تک کہ مالک اپنا پردہ اس پر رکھ دے گا اور اس سے اقرار کروائے گا اس کے گناہوں کا اور کہے گا: ”تو پہچانتا ہے اپنے گناہوں کو؟“وہ کہے گا: اے رب میں پہچانتا ہوں۔ پروردگار فرمائے گا: ”تو میں نے چھپا دیا ان گناہوں کو تجھ پر دنیا میں اور اب میں بخش دیتا ہوں ان کو آج کے دن تیرے لیے۔“ پھر وہ نیکیوں کی کتاب دیا جائے گا اور کافر اور منافقوں کے لیے تو مخلوقات کے سامنے منادی ہو گی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا: اللہ تعالیٰ پر۔“
