طلاق
کل احادیث 181
طلاق اور ازدواجی مسائل کے متعلق اہم احادیث
اسلامی تعلیمات میں نکاح کو مضبوط بنانے اور طلاق سے بچنے کی ہر ممکن ترغیب دی گئی ہے۔ میاں بیوی کے باہمی اختلافات کی صورت میں صلح کو بہترین راستہ قرار دیا گیا ہے۔ اگر شوہر ناراضگی یا کسی اور وجہ سے طلاق کا ارادہ رکھتا ہو، تو بیوی اپنے حقوق (جیسے نفقہ یا باری) میں نرمی کر کے صلح کا معاہدہ کر سکتی ہے کیونکہ صلح بہرحال بہتر ہے۔ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج سے عارضی علیحدگی (ایلاء) تو فرمائی لیکن طلاق نہیں دی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طلاق آخری حل ہے۔ مزید برآں، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں (طلاق بت) دے دے، تو وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور ان کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہو۔
وَصَارَ قَوْلُ وَصَارَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا ، فَكُلُّهُمْ قَالُوا : " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " . قالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ حِينَ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، فَسَأَلَهُمَا عَنْ ذَلِكَ . فَقَالَا : اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، ثُمَّ سَاقَ هَذَا الْخَبَرَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ هُوَ : " أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ تَبِينُ مِنْ زَوْجِهَا مَدْخُولًا بِهَا وَغَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا ، لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " . هَذَا مِثْلُ خَبَرِ الصَّرْفِ ، قَالَ فِيهِ : ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ .
´ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ` ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ (کنواری) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہو جائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہو چکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے اس کی مثال «صَرْف» والی حدیث کی طرح ہے ۱؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کر لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ ابْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ ، عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
´اس سند سے بھی` رکانہ بن عبد یزید سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ " ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : " إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ` آپ فلانہ (عمرہ بنت حکم) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں سے منتقل ہونے کی) انہیں اجازت دے دی تھی۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : حدثنا ، وَقَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، فَبَتَّ طَلَاقَهَا ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ ، وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا ، فقَالَ : " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ؟ لَا ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، قَالَ : فَطَفِقَ خَالِدٌ ، يُنَادِي : أَبَا بَكْرٍ ، أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
چند الفاظ کے فرق کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔ حدیث وہی ہے جو اوپر گزری۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالاحدیث مروی ہے۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فقَالَ : " لَا ، حَتَّى يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " ،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک شخص نے طلاق دی اپنی عورت کو تین بار اور اس عورت سے کسی اور نے نکاح کیا اور پھر اس کو طلاق دی قبل دخول کے اور شوہر اول نے ارادہ کیا پھر اس سے نکاح کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ شوہر ثانی اس سے جماع کی لذت نہ پا لے جیسے شوہر اول نے پائی تھی۔“
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حدثنا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ إِسْحَاقَ : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ : وَاحِدَةً ، فقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ " .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنمہا نے کہا کہ طلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی دو برس تک ایسا امر تھا کہ جب کوئی ایک بارگی تین طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے جلدی کرنا شروع کی اس میں جس میں ان کو مہلت ملی تھی سو ہم اس کو اگر جاری کر دیں تو مناسب ہے، پھر انہوں نے جاری کر دیا (یعنی حکم دے دیا کہ جو ایک بارگی تین طلاق دے تو تینوں واقع ہو گئیں)۔
وحدثناه الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
کہا امام مسلم نے اور بیان کی مجھ سے یہی روایت حسن بن عیسیٰ نے، ان سے ابن مبارک نے، ان سے عاصم نے اسی اسناد سے مانند اس کے۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا " .
مضمون وہی ہے جو اوپر گزرا۔
