نسب اور ولدیت کے احکام

کل احادیث 9

نسب اور ولدیت کے احکام پر مبنی مستند احادیث کا مجموعہ

ان مبارک احادیث میں اسلام کے خاندانی نظام اور نسب کی حفاظت کے حوالے سے انتہائی اہم اور واضح احکام بیان کیے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نسبی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے ایک زریں اصول عطا فرمایا کہ بچہ اسی کا شمار ہوگا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، یعنی جائز میاں بیوی یا مالک اور لونڈی کا رشتہ، جبکہ زنا کرنے والے کے لیے رسوائی اور محرومی ہے۔ احادیث کے مطابق، قیافہ شناس (انسانی اعضاء کی شباہت پہچاننے والے) کی گواہی کو بھی نسب کی تصدیق کے لیے پسندیدہ اور خوشی کا باعث سمجھا گیا، جیسے زید اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے پیروں کی شباہت سے ان کا باپ بیٹا ہونا ثابت ہوا۔ یہ احادیث معاشرتی پاکیزگی برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ . بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّ مَعْمَرًا ، وَابْنَ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِمَا : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلَمْ يَذْكُرَا : وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .

‏‏‏‏ زہری سے اسی اسناد سے وہی روایت مروی ہوئی مگر معمر اور ابن عیینہ نے اپنی حدیثوں میں کہا کہ لڑکا فراش کا ہے۔ اور زانی کا ذکر نہیں کیا۔

وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَمَّا ابْنُ مَنْصُورٍ ، فقَالَ : عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَمَّا عَبْدُ الْأَعْلَى ، فقَالَ : عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ زُهَيْرٌ : عَنْ سَعِيدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ عَمْرٌو : حدثنا سُفْيَانُ مَرَّةً ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی ایک اور روایت اس سند سے بھی منقول ہے۔

وحدثناه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " دَخَلَ قَائِفٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شاهد وأسامة بن زيد ، وزيد بن حارثة ، مضطجعان ، فقال : إن هذه الأقدام بعضها من بعض ، فسر بذلك النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ ، وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ " ،

‏‏‏‏ مندرجہ بالا حدیث اس سند کے ساتھ بھی بیان کی گئی ہے چند الفاظ کے فرق کے ساتھ۔

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ : وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا .

‏‏‏‏ وہی مضمون اس سند سے مروی ہوا ہے اور اس میں یہ ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش (یعنی شوہر یا مالک) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے“ ۲؎۔

حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت : اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ ، فقَالَ سَعْدٌ : هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ ؟ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فقَالَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ " ، قَالَت : فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَوْلَهُ : يَا عَبْدُ ،

عائشہ روایت:

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ دونوں نے جھگڑا کیا ایک لڑکے میں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ لڑکا میرے بھائی کا بچہ ہے کہ نام میرے بھائی کا عتبہ بن ابی وقاص ہے اور انہوں نے مجھ سے کہہ رکھا تھا کہ یہ میرا فرزند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شباہت ملاحظہ فرما لیں۔اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن زمعہ نے کہا کہ یارسول اللہ! یہ لڑکا میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے فراش پر اس کی لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ مشابہ ہے بخوبی عتبہ کے ساتھ اور فرمایا: ”کہ اے عبد! لڑکا اسی کا ہے جس کے فراش پر پیدا ہو اور زانی کو بے نصیبی اور محرومی ہے یا پتھر۔ اور اسے سودہ زمعہ کی بیٹی! تم اس سے چھپا کرو۔“ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس کو کبھی نہیں دیکھا۔ اور محمد بن رمح کی روایت میں یا عبد کا لفظ نہیں ہے۔

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، قَالَ : أَخْبَرَنا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، فقَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا ، إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " ، فقَالَ : إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمک رہا تھا۔ اور فرمایا: ”کہ تم نے دیکھا کہ مجزز (یہ نام ہے قیافہ شناس کا) نے ابھی نگاہ کی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کی طرف اور کہا: ان لوگوں کے پیر ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی جز ہیں۔“

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالُوا : حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا ، فقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ ، فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا ، وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا " ، فقَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ .

عائشہ روایت:

میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ایک دن اور خوش تھے۔ اور فرمایا: ”کہ اے عائشہ! کیا تو نے نہ دیکھا کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا اور اسامہ اور زید دونوں کو دیکھا اور یہ دونوں ایک چادر اس طرح اوڑھے تھے کہ سر ان کا ڈھپا ہوا تھا اور پیر کھلے تھے تو اس نے کہا: کہ یہ پیر جز ہیں ایک دوسرے کے۔“ (یعنی ایک باپ کے ہیں دوسرے بیٹے کے)۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ،

سیدنا ابوہریرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا بستر والے کا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں