بیویوں کے حقوق

کل احادیث 20

بیویوں کے حقوق اور نئی شادی پر قیام کے شرعی احکام

ان احادیث مبارکہ میں متعدد شادیوں کی صورت میں بیویوں کے حقوق اور خاص طور پر نئی شادی کے موقع پر قیام کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرویات کے مطابق، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس تین دن قیام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ایک ہفتہ (سات دن) قیام فرما سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں دیگر ازواج مطہرات کے ہاں بھی سات سات دن قیام کرنا لازم ہوگا اور اسی حساب سے باری مقرر ہوگی۔ احادیث کے الفاظ کے مطابق، اسلامی اسکالرز کے نزدیک یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ نئی شادی کی صورت میں اگر بیوی پہلے سے شادی شدہ (ثیبہ) ہو تو اس کے پاس ابتدائی تین دن اور اگر کنواری (باکرہ) ہو تو سات دن قیام کرنا شوہر پر لازم ہے، تاکہ نئی بیوی کی دلجوئی ہو سکے اور حقوق العباد میں کوتاہی نہ ہو۔

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ وہی روایت اس سند سے مروی ہوئی۔

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حدثنا زُهَيْرٌ . ح وحدثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حدثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا شَرِيكٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ : أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ ، قَالَت : وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدِي .

‏‏‏‏ وہی مضمون ہے اور شریک کی روایت میں یہ زیادہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا پہلی بی بی تھیں جن سے میرے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تھا۔

وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " أَمَا تَسْتَحْيِي امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ " .

‏‏‏‏ وہی مضمون ہے اس کے سرے پر یہ ہے کہ عورت شرم نہیں کرتی کہ ہبہ کرتی ہے اپنی جان کسی مرد کے لیے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَسُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“ ۱؎۔

حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنَ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ ، قَالَت : " فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ ، قَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ ، يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ " ،

عائشہ روایت:

میں نے کسی عورت کو ایسا نہیں دیکھا کہ آرزو کرتی میں اس کے جسم میں ہونے کی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر۔ وہ ایک ایسی عورت تھیں کہ ان کے مزاج میں بڑی تیزی تھی پھر جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی اور عرض کی یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو روز رہتے ایک ان کے دن ایک سودہ رضی اللہ عنہا کے دن میں۔

حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقُولُ وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ سورة الأحزاب آية 51 ، قَالَت : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ " .

عائشہ روایت:

میں ان عورتوں میں بہت رشک کھایا کرتی تھی جو اپنی جان کو ہبہ کر دیتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور میں کہتی تھی کہ عورت اپنی جان کو کیونکر ہبہ کرتی ہو گی پھر جب یہ آیت اتری«تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ» (۳۳-الاحزاب:۵۱) یعنی ”جس کو چاہے تو اے نبی! دور کر اپنے سے اور جس کو چاہے جگہ دے اپنے پاس ان میں سے۔“تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قسم ہے اللہ پاک کی کہ میں دیکھتی ہوں کہ وہ اللہ آپ کی آرزو کے موافق جلد حکم فرماتا ہے۔

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حدثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ ، فَكَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لَا يَنْتَهِي إِلَى الْمَرْأَةِ الْأُولَى ، إِلَّا فِي تِسْعٍ ، فَكُنَّ يَجْتَمِعْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا " ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَجَاءَتْ زَيْنَبُ ، فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فقَالَت : هَذِهِ زَيْنَبُ ، فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَتَقَاوَلَتَا ، حَتَّى اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى ذَلِكَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا ، فقَالَ : اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَى الصَّلَاةِ وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت عَائِشَةُ : الْآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ فَيَجِيءُ أَبُو بَكْرٍ ، فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَاتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ ، فقَالَ لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا ، وَقَالَ : أَتَصْنَعِينَ هَذَا .

انس روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیبیاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان میں باری کرتے تھے تو پہلی بیوی کے پاس نویں دن تشریف لاتے تھے اور بیبیوں کا قاعدہ تھا کہ جس کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے اس کے گھر جمع ہوتی تھیں۔ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے اور بی بی زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا اور انہوں نے عرض کی کہ زینب ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اور بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا اور زینب رضی اللہ عنہا کے بیچ تکرار ہونے لگی۔ یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں اور نماز کی تکبیر ہو گئی۔اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے قریب سے گزرے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ نماز کو نکلیے اور ان کے منہ میں خاک ڈالیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکیں گے تو ابوبکر رضی اللہ عنہا آ کر ایسا ویسا خفا ہوں گے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان کو بہت سخت سست کہا اور فرمایا: کہ تو ایسا کرتی ہے (یعنی حضور کے آگے چیختی اور آواز بلند کرتی ہے)۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، وَخَرَجَ وَقَالَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ هُوَ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ زینب رضی الله عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کی اور باہر تشریف لا کر فرمایا: ”عورت جب سامنے آتی ہے تو وہ شیطان کی شکل میں آتی ہے ۱؎، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس لیے کہ اس کے پاس بھی اسی جیسی چیز ہے جو اس کے پاس ہے“۔

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا : حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عَنْدَهَا ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .

ام سلمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین روز ان کے پاس رہے۔ اور پھر فرمایا: ”کہ تم اپنے شوہر کے پاس کچھ حقیر نہیں ہو اگر تم چاہو تو میں ایک ہفتہ تمہارے پاس رہوں اور اگر ایک ہفتہ تمہارے پاس رہا تو سب اپنی عورتوں کے پاس ایک ہفتہ رہوں گا۔ اور پھر ان سب کے بعد تمہاری باری آئے گی“۔

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ ، وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .

ام سلمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا اور اس میں کئی چیزوں کا ذکر کیا اس میں یہ بھی تھا کہ فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں سات دن تک تمہارے پاس رہوں گا اور اگر سات دن تمہارے پاس رہوں گا تو اپنی اور بیبیوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں