من گھڑت احادیث

کل احادیث 5

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِى أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِى ، أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ ، وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اخیر امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تم سے حدیثیں بیان کریں گے جن کو نہ تم نے سنا، نہ تمہارے باپ دادا نے تو ان سے بچے رہنا۔“

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَال : حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ ، بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ ، وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ ، لَا يُضِلُّونَكُمْ ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اخیر زمانے میں دجال (یعنی جھوٹ کو سچ بنانے والے) اور کذاب (یعنی جھوٹ بولنے والے) پیدا ہوں گے۔ وہ ایسی حدیثیں تم کو سنائیں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے نہ سنی ہوں گی تو بچے رہنا ان سے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو گمراہ کر دیں اور آفت میں ڈال دیں۔“

وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبَدَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ ، فَيَتَفَرَّقُونَ ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلَا أَدْرِى مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ

عبداللہ بن مسعود روایت:

شیطان ایک مرد کی صورت بن کر لوگوں کے پاس آتا ہے پھر ان سے جھوٹی حدیث بیان کرتا ہے۔ جب لوگ اس جگہ سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص کہتا ہے، میں نے سنا ایک شخص سے جس کی صورت میں پہچانتا ہوں لیکن نام نہیں جانتا وہ ایسا بیان کرتا تھا۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْبَحْرِ شَيَاطِينَ مَسْجُونَةً ، أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ ، فَتَقْرَأَ عَلَى النَّاسِ قُرْآنًا

عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:

دریا میں (یعنی سمندر میں) بہت شیطان ہیں جن کو قید کیا ہے سیدنا سلیمان علیہ السلام نے، قریب ہے کہ وہ نکلیں اور لوگوں کو قرآن سنائیں۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ : سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي " أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ ، فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ ، حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَقَالَ لِيَ : احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ ، إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ ، فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ ، إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ ، وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ

سفیان بن حسین روایت:

مجھ سے ایاس بن معاویہ نے کہا: میں دیکھتا ہوں تم بہت محنت کرتے ہو قرآن کے حاصل کرنے میں (یعنی علم تفسیر میں) تو ایک سورت پڑھ میرے سامنے پھر اس کا مطلب بیان کر تاکہ میں دیکھوں تمہارا علم۔ سفیان نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا۔ ایاس نے کہا، یاد رکھ جو میں کہتا ہوں تجھ سے۔ بچ تو شناعت سے حدیث میں (شناعت کے معنی قباحت یعنی ایسی حدیثیں مت نقل کر کہ لوگ تمہیں برا سمجھیں اور جھوٹا جانیں) کیوں کہ جس نے شناعت کو اختیار کیا وہ خود بھی ذلیل ہوا اور دوسروں نے بھی اس کو جھٹلایا (یعنی اس کا اعتبار جاتا رہا، اب سچی بات بھی اس کی جھوٹی سمجھی جاتی ہے)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں