نیک اعمال
کل احادیث 73
نیک اعمال اور ان کی فضیلت کے بارے میں صحیح احادیث
نیک اعمال کے موضوع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ ہمیں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ سکھاتی ہیں۔ احادیث کے مطابق، اسلام میں سب سے افضل عمل اللہ اور اس کے رسول پر پکا ایمان لانا، اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا اور مخلصانہ حج ادا کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اپنے مسلمان بھائیوں کو کھانا کھلانا اور جاننے والے یا نہ جاننے والے ہر شخص کو سلام کرنا بہترین اسلام کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عبادات کی بھی بڑی فضیلت ہے، جیسا کہ شب قدر میں خالص نیت اور ایمان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا انسان کے گزشتہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ تمام باتیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ نیک اعمال ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد راستہ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ ، إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا کام افضل ہے؟ (یعنی سب سے بڑھ کر ہے ثواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھنا اپنے وقت پر“ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کرنا ماں باپ سے“ (یعنی ان کو خوش رکھنا اور ان کے ساتھ احسان کرنا اور ان کے دوستوں کے ساتھ بھی سلوک کرنا) میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کرنا اللہ کی راہ میں “ پھر میں نے زیادہ پوچھنا چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت کر کے۔ (تاکہ آپ پر بار نہ گزرے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا ، قُلْتُ : وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! کون سے اعمال جنت کے قریب کرنے والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو وقت پر ادا کرنا“ میں نے پوچھا اور کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“ میں نے پوچھا: اور بتلائیں، کہا کہ ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : حَدَّثَنِي بِهِنَّ : وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے، مجھ سے بیان کیا اس گھر والے نے اور اشارہ کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف۔ کہا: پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، کون سا کام بہت پسند ہے اللہ تعالیٰ کو؟ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا .
دوسری روایت بھی ایسی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوعمرو شیبانی نے اشارہ کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اور ان کا نام نہ لیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ، أَوِ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب کاموں سے بڑھ کر یا سب سے بڑھ کر کام نماز پڑھنا ہے اپنے وقت پر اور نیکی کرنا ہے ماں، باپ سے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةً صَالِحَةً يُعْمَلُ بِهَا بَعْدَهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ تَمَامَ الْحَدِيثِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا یہ تھی «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ» یعنی یا اللہ میں پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت دی ہوئی پلٹ جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور سب تیرے غضب والے کاموں سے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“ کہا گیا، اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ کہا گیا، پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حج مبرور“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکر و عبادت میں گزارے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
