بالوں اور ناخنوں کی سنتیں
کل احادیث 17
بالوں اور ناخنوں کی سنتیں اور احادیثِ نبوی
اسلام میں صفائی ستھرائی اور ظاہری وضع قطع کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں کی دیکھ بھال فرماتے تھے، آپ کے مبارک بال کان کی لو تک ہوتے تھے اور آپ مہندی کا استعمال بھی فرماتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی، بالوں اور ناخنوں کے حوالے سے اسلامی احکام میں یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ جب ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے اور کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اسے قربانی کرنے تک اپنے بال کاٹنے اور ناخن تراشنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ یہ عمل سنت نبوی کے مطابق احترام اور تقویٰ کی علامت سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ اسلامی علماء بیان کرتے ہیں۔ ان احادیث سے ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں سنتوں پر عمل کرنے اور شعائر اسلام کا احترام کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا عمرو بن مسلم سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
سیدنا عمرو بن مسلم جندعی سے روایت ہے کہ ابن مسیب رحمہ اللہ خبر دیتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ خبر دیتی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ :سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " : مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أَهَلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : اخْتَلَفُوا عَلَى مَالِكٍ ، وَعَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو فِي عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : عُمَرُ وَأَكْثَرُهُمْ قَالَ : عَمْرٌو ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ الْجُنْدُعِيُّ .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی کا جانور ہو اور وہ اسے عید کے روز ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب عید کا چاند نکل آئے تو اپنے بال اور ناخن نہ کترے“۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا " .
ام سلمہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے“۔
حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ لَهُ شَعَرًا وَلَا ظُفْرًا " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے، اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کے قریب نہ پھٹکے“۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا " ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ ، قَالَ : لَكِنِّي أَرْفَعُهُ .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے (یعنی پہلی تاریخ شروع ہو) اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے۔“ سفیان جو راوی ہیں اس حدیث کے ان سے کسی نے کہا: بعض لوگ اس حدیث کو مرفوع نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: میں تو مرفوع کرتا ہوں۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيم ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے اور قربانی موجود ہو جس کو وہ قربان کرنا چاہے تو بال نہ کترائے نہ ناخن تراشے۔“
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور کوئی تم میں سے قربانی کرنا چاہے تو اپنے بال اور ناخن یونہی رہنے دے۔“
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ ، فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس جانور ہو ذبح کرنے کے لیے اور ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے تو اپنے بال اور ناخن نہ لے جب تک قربانی نہ کرے۔“
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ " .
ام سلمہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ذی الحجہ کے مہینے کا چاند دیکھا پھر قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے بال اور ناخن قربانی کرنے تک نہ لے“ ۱؎۔
