قضا نماز کے احکام

کل احادیث 17

قضا نماز کے احکام اور مسائل: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں سچی رہنمائی

اسلام میں نماز کو وقت پر ادا کرنا فرض کیا گیا ہے، لیکن اگر کسی شرعی عذر جیسے کہ آنکھ نہ کھلنے یا بھول جانے کی وجہ سے نماز قضا ہو جائے تو احادیثِ مبارکہ میں اس کا واضح طریقہ اور احکام بیان کیے گئے ہیں۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے، تو جب بھی اسے یاد آئے، اسے فوراً ادا کر لینا چاہیے، کیونکہ اس قضا کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا کفارہ نہیں ہے۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب جنگ کی مصروفیت کی وجہ سے نمازِ عصر قضا ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہونے کے بعد پہلے عصر کی قضا پڑھی اور پھر مغرب کی نماز ادا فرمائی۔ اسی طرح سفر کے دوران جب تمام صحابہ سوتے رہ گئے اور سورج نکل آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دلوا کر باجماعت قضا نماز ادا فرمائی۔ ائمہ اور اسلامی علماء کے مطابق یہ احادیث ثابت کرتی ہیں کہ قضا نماز کو ترتیب کے ساتھ جلد از جلد ادا کرنا ضروری ہے۔

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَسِيتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ إِذَا ذَكَرْتَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " . قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا بِهِ يَعْلَى مُخْتَصَرًا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «أقم الصلاة لذكري» ”نماز قائم کرو جب میری یاد آئے“۔ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال : أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَالَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے“۔

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، يَقُولُ : 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0 " . قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : هَكَذَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو یاد آنے پر“، معمر کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھا ہے؟ کہا: ہاں“ (یعنی: «للذکریٰ»)۔

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ .

ابوہریرہ روایت:

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو ہم (سوتے رہے) جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کو چاہیئے کہ اپنی سواری کا سر تھام لے (یعنی سوار ہو کر یہاں سے نکل جائے) کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں شیطان ہمارے ساتھ رہا“، ہم نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا اور وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے فجر پڑھائی۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَرَّسَ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ بَعْضُهَا ، فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى وَهِيَ صَلَاةُ الْوُسْطَى " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چلے، پھر رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو آپ جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، یا اس کا کچھ حصہ نکل آیا، اور آپ نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج اوپر چڑھ آیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، اور یہی «صلوٰۃ وسطی» ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا ، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ ، وَأَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي " ، قَالَ مُوسَى : قَالَ هَمَّامٌ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعْدُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ للذِّكْرَى ، وَقَالَ حَبَّانُ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .

انس بن مالک روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اور (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے۔ حبان بن ہلال نے کہا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے“۔

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا ، قَالَ : " كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز سے سو جاتا ہے یا اس سے غافل ہو جاتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے“۔

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ " . ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمیں (کافروں کی طرف سے) ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سے روک لیا گیا، تو یہ میرے اوپر بہت گراں گزرا، پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، اور اللہ کے راستے میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں ظہر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عصر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں مغرب پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر گھومے اور فرمایا: ”روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں ہے، جو اللہ کو یاد کر رہی ہو“۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ ، قَالَ : " جَعَلَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَسُبُّ كُفَّارَهُمْ ، وَقَالَ : مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى غَرَبَتْ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَصَلَّى بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ " .

جابر روایت:

عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک دن) کفار کو برا بھلا کہنے لگے۔ فرمایا کہ سورج غروب ہو گیا، لیکن میں (لڑائی کی وجہ سے) نماز عصر نہ پڑھ سکا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم وادی بطحان کی طرف گئے۔ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز) غروب شمس کے بعد پڑھی اس کے بعد مغرب پڑھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں