حدیث ۱۳۱۴
جامع ترمذی : ۱۳۱۴
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۳۱۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ لَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ، يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ ، وَلَا مَالٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (غلہ وغیرہ کا) نرخ بڑھ گیا، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا اور کھولنے والا اور بہت روزی دینے والا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جان و مال کے سلسلے میں کسی ظلم (کے بدلے) کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔
