حدیث ۱۳۱۵
جامع ترمذی : ۱۳۱۵
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۳۱۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا ، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا ، فَقَالَ : " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا " ، قَالَ : أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبُرَيْدَةَ ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا : الْغِشُّ حَرَامٌ .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: ”غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔
