صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۷ - آنسو، دل کا غم اور زبان
غم میں آنسو اور زبان کی حفاظت کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۱۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۳۷
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ ، فَقَالَ : " أَقَدْ قَضَى " ، قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ ، أَوْ يَرْحَمُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھنے آئے اور عبدالرحمٰن اور سعد اور عبداللہ رضی اللہ عنہم ان کے ساتھ تھے۔ پھر جب ان کے پاس آئے تو بے ہوش پایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انتقال ہو گیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا نہیں (اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کو علم غیب نہیں ہوتا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے۔ اور لوگوں نے جب دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے تو سب رونے لگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنتے ہو اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں پر اور دل کے غم پر عذاب نہیں کرتا وہ تو اس پر عذاب کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا یا اس پر ہی رحم کرتا ہے۔“ (یعنی جب کلمہ خیر منہ سے نکالے تو رحم کرتا اور جب کلمہ شر نکالے تو عذاب کرتا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا انتقال ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے، اور لوگ بھی رو پڑے۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیتا، لیکن اس پر عذاب کرتا ہے یا رحم کرتا ہے، اور آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا۔ اس حدیث کا موضوع میت پر رونا، دل کا غم، آنسو، زبان کی حفاظت اور بیمار کی عیادت ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ غم فطری ہے، مگر زبان سنبھالنی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں بتایا گیا۔
- غم کے وقت زبان کے الفاظ بہت اہم ہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
- رونا اگر زبان کی غلطی کے ساتھ نہ ہو تو اس روایت میں اسے الگ رکھا گیا ہے۔
