صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۴ - میت پر بلند رونے سے رکنا
میت پر رونے میں حد: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
صحیح مسلم : ۲۱۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۳۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي ، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ " فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَلَمْ أَبْكِ .
ام سلمہ روایت:
جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: یہ مسافر پرائی زمین میں مر گیا۔ میں اس کے لئے ایسا روؤں گی کہ لوگوں میں اس کا خوب چرچا ہو گا۔ غرض میں نے رونے کی تیاری کی۔ ایک عورت اور آ گئی مدینہ کے اوپر کے محلہ سے، وہ چاہتی تھی کہ میرا ساتھ دے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آگے آئے اور فرمایا: ”کیا تو شیطان کو بلانا چاہتی ہے اس گھر میں جس میں سے اللہ نے اس کو دوبارہ نکالا ہے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر میں رونے سے باز رہی اور نہ روئی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس طرح روئیں گی کہ لوگوں میں اس کا چرچا ہو۔ ایک عورت بھی آئی جو ان کا ساتھ دینا چاہتی تھی۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ کیا تو شیطان کو ایسے گھر میں داخل کرنا چاہتی ہے جس سے اللہ نے اسے نکالا ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔ اس حدیث کا موضوع میت پر رونا، نوحہ سے بچنا، صبر اور غم میں زبان و انداز کو سنبھالنا ہے۔ یہاں عام غم کا نہیں، بلکہ چرچا بننے والے رونے کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم میں ایسا رونا اختیار نہیں کرنا چاہیے جس کا مقصد چرچا بنے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ سن کر ام سلمہ رضی اللہ عنہا رک گئیں۔
- مصیبت کے وقت اپنے عمل اور زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- میت کے گھر میں غلط انداز کے رونے سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے۔
