صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۵ - صبر، رحمت اور آنسو

مصیبت میں صبر اور رحمت: نبی صلى الله عليه وسلم کے آنسو کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۳۵

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ ، أَنَّ صَبِيًّا لَهَا أَوِ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ : ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى ، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " ، فَعَادَ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا ، قَالَ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .

اسامہ بن زید روایت:

ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک صاحبزادی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور بلایا اور خبر بھیجی کہ ان کا ایک لڑکا موت کے قریب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تو لوٹ جا اور ان سے کہہ دے کہ اللہ ہی کا تھا جو اس نے لیا اور جو دیا۔ اور ہر چیز کی اس کے نزدیک ایک عمر مقرر ہے سو تو ان کو حکم کر کہ وہ صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں۔“وہ خبر لانے والا پھر آیا اور عرض کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دیتیں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں (اس سے دوسرے کو قسم دینا جائز ہوا) پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی چلے۔اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ تھا، پھر اس لڑکے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اٹھا لیا اور وہ دم توڑتا تھا، گو وہ پرانے مشکیزہ میں کھنکھناتا تھا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھیں رونے لگیں۔ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا؟ اے اللہ کے رسول! (یعنی رونے کو صبر کے خلاف سمجھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحمت کرتا ہے جو دوسروں پر رحمت کرتے ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی ایک صاحبزادی کا پیغام آیا کہ ان کا بچہ موت کے قریب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دیا کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور جو اس نے دیا، اور ہر چیز اس کے پاس مقرر وقت کے ساتھ ہے؛ انہیں صبر اور ثواب کی امید کا حکم دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ بچے کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جو اللہ نے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے، اور اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے۔ یہ حدیث صبر، رحمت، آنسو اور احتساب کا خوبصورت سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مصیبت میں صبر اور اللہ سے ثواب کی امید رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور جو اس نے دیا۔
  • آنکھ کے آنسو لازماً بے صبری نہیں، یہاں انہیں رحمت کہا گیا ہے۔
  • دل میں رحم ہونا اللہ کی عطا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں