صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۸ - بیمار کی عیادت کا عمل
عیادت مریض کی حدیث: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی خبر گیری
صحیح مسلم : ۲۱۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۳۸
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ ، كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ؟ " فَقَالَ : صَالِحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ ؟ " فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار کا ایک شخص آیا اور سلام کیا اور پھر لوٹا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے انصار کے بھائی، میرا بھائی! سعد کیسا ہے؟۔“ اس نے عرض کیا اچھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کون ان کی عیادت کرتا ہے؟۔“آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اور ہم دس پر کئی آدمی تھے کہ نہ ہمارے پاس جوتے تھے، نہ موزے اور نہ ٹوپیاں (یہ کمال زہد تھا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اور دنیا سے بیزاری تھی) اور ہم چلے جاتے تھے اس کنکریلی زمین میں یہاں تک کہ ان تک پہنچے اور لوگ جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تھے وہ ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان کے پاس گئے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انصار کا ایک شخص آیا، سلام کیا اور واپس جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا حال پوچھا۔ جب اس نے کہا کہ وہ اچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون ان کی عیادت کرے گا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور صحابہ بھی ساتھ چل پڑے۔ وہ لوگ سادہ حالت میں، سخت زمین پر چلتے ہوئے سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیمار کی عیادت، حال پوچھنا، صحابہ کے ساتھ جانا اور عملی خیر خواہی ہے۔ یہاں عیادت کو صرف بات نہیں، بلکہ عمل کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیمار کا حال پوچھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- عیادت کے لیے خود جانا خیر خواہی کا اچھا طریقہ ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیادت میں شریک ہوئے۔
- بیمار کے پاس جانے میں سادگی اور اخلاص کا پہلو نظر آتا ہے۔
