صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۶ - دغا باز کی شناخت
دغا باز کی شناخت: قیامت کے دن جھنڈا
صحیح مسلم : ۴۵۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۳۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دغا باز کا ایک جھنڈا ہو گا قیامت کے دن جس سے اس کی شناخت ہو گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۶ کا خلاصہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہر دغا باز کا ایک جھنڈا ہوگا قیامت کے دن جس سے اس کی شناخت ہوگی۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر عہد شکنی کے معاملے میں بہت واضح تنبیہ دیتی ہے۔ جھنڈا شناخت کے لیے ہوتا ہے، اور حدیث میں یہی بات دغا باز کے بارے میں فرمائی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دغا بازی صرف دنیا کا معاملہ نہیں رہتی، بلکہ آخرت میں بھی اس کا حساب اور اظہار ہو سکتا ہے۔ متن میں اعلان یا نام کی تفصیل نہیں، صرف شناخت کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر آدمی کو اپنے وعدے، امانتیں اور ذمہ داریاں یاد کرنی چاہئیں، تاکہ وہ دغا اور عہد شکنی سے بچ سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن جھنڈے کا ذکر ہے۔
- اس جھنڈے سے دغا باز کی شناخت ہوگی۔
- عہد شکنی سے بچنے کی سنجیدہ یاد دہانی ملتی ہے۔
