صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۵ - دغا باز جھنڈے سے پہچانا جائے گا
دغا باز کا جھنڈا: عہد شکنی کی پہچان
صحیح مسلم : ۴۵۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۳۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دغا باز کا ایک جھنڈا ہو گا قیامت کے دن جس سے وہ پہچانا جائے گا کہا جائے گا یہ دغا بازی ہے فلانے کی۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۵ کا خلاصہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہر دغا باز کا ایک جھنڈا ہوگا قیامت کے دن جس سے وہ پہچانا جائے گا، کہا جائے گا یہ فلانے کی دغا بازی ہے۔ اس حدیث میں دو باتیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں: دغا باز پہچانا جائے گا، اور اس کی دغا کا ذکر کیا جائے گا۔ اس سے وعدہ خلافی کی حدیث کا پیغام صاف ہے کہ عہد توڑنا آدمی کے لیے آخرت میں رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ متن میں دغا کی مقدار یا اقسام کی الگ تفصیل نہیں، اس لیے ہم اسی بیان تک محدود رہتے ہیں۔ عملی طور پر یہ حدیث ہر مسلمان کو اپنے وعدوں، امانتوں اور معاہدوں میں محتاط رہنے کی نصیحت کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن دغا باز جھنڈے سے پہچانا جائے گا۔
- اس کی دغا کا ذکر کیا جائے گا۔
- وعدوں اور معاہدوں میں خیانت سے بچنا چاہیے۔
