سنن نسائی حدیث ۲۷۴۱ - جابر رضی اللہ عنہ سے حجۃ النبی کا آغاز

حجۃ النبی صلى الله عليه وسلم: صحابہ کی اقتدا اور حج کی نیت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۴۱

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَال : أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَحَدَّثَنَا , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ حِجَجٍ ، ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجِّ هَذَا الْعَامِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلُ مَا يَفْعَلُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، قَالَ جَابِرٌ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ " .

ابو جعفر محمد بن علی باقر روایت:

ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آ گئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل (تفسیر) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چنانچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔

سنن نسائی حدیث ۲۷۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو جعفر محمد بن علی باقر بیان کرتے ہیں کہ وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور نبی صلى الله عليه وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نو سال مدینہ میں رہے، پھر اعلان کیا گیا کہ اس سال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم حج کے لیے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ مدینہ آئے، سب چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی اقتدا کریں اور وہی کریں جو آپ صلى الله عليه وسلم کرتے ہیں۔ پھر ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ آپ صلى الله عليه وسلم حج کے لیے نکلے اور صحابہ بھی ساتھ نکلے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہمارے درمیان تھے، آپ پر قرآن اتر رہا تھا، آپ اس کی تاویل جانتے تھے، اور آپ جو عمل کرتے ہم بھی کرتے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حجۃ النبی، اتباع رسول، حج کی نیت، اور صحابہ کا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کرنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حج میں آپ کی اقتدا چاہتے تھے۔
  • جابر رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے حج کا واقعہ پوچھنے والوں کو بیان کیا۔
  • صحابہ نے وہی عمل کیا جو نبی صلى الله عليه وسلم نے کیا۔
  • اس روایت میں شروع میں صرف حج کی نیت کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں