سنن نسائی حدیث ۲۷۴۲ - حائضہ عورت کے حج کا حکم
حائضہ عورت حج میں کیا کرے؟
سنن نسائی : ۲۷۴۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۴۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : خَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ ، حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ : " أَحِضْتِ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْمُحْرِمُ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " .
عائشہ روایت:
ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ وہ حج کے ارادے سے نکلیں، مگر سرف کے مقام پر انہیں حیض آ گیا۔ وہ پریشان ہو کر رو رہی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت نرمی سے سمجھایا کہ یہ ایسی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیض کوئی شرمندگی یا عبادت سے مکمل محرومی کی بات نہیں۔ حائضہ عورت حج میں وہ کام کر سکتی ہے جو احرام والا کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ حائضہ عورت کا حج، طواف کا حکم، اور احرام کے اعمال ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض عورت کے لیے اللہ کا مقرر کردہ طبعی معاملہ ہے، اس پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔
- حائضہ عورت احرام کے عام اعمال کر سکتی ہے۔
- بیت اللہ کا طواف پاکی سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔
- دین میں مشکل کے وقت نرمی اور صاف رہنمائی دی گئی ہے۔
