سنن نسائی حدیث ۳۰۴۳ - امام کے ساتھ مزدلفہ پانا

مزدلفہ کو امام کے ساتھ پانے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۴۳

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ جَمْعًا مَعَ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ حَتَّى يُفِيضَ مِنْهَا ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَعَ النَّاسِ وَالْإِمَامِ ، فَلَمْ يُدْرِكْ " .

عروہ بن مضرس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پا لے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پا سکا تو اس نے حج نہیں پایا“۔

سنن نسائی حدیث ۳۰۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پانے کا حکم بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پا لے، یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں سے منیٰ کی طرف لوٹیں، تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پا سکے، اس نے حج نہیں پایا۔ اس روایت کا اصل موضوع حج کے وقت، جماعت کے ساتھ قیام، اور مزدلفہ کی اہمیت ہے۔ اس میں حاجی کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ حج کے اعمال میں صرف سفر کافی نہیں، بلکہ مقررہ مقام اور مقررہ وقت پر حاضری بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مزدلفہ میں امام اور لوگوں کے ساتھ موجود ہونا حج کے اہم اعمال میں سے ہے۔
  • حج کے اعمال میں وقت پر پہنچنے کی خاص اہمیت ہے۔
  • جماعت کے ساتھ حج کے مقررہ عمل میں شریک ہونا اس روایت میں نمایاں ہے۔
  • مزدلفہ سے منیٰ واپسی تک قیام کا ذکر حج کے نظم کو واضح کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں