اولاد میں برابری

کل احادیث 31

اولاد میں برابری اور عدل و انصاف کے بارے میں احادیثِ مبارکہ

ان احادیثِ مبارکہ میں اولاد کے درمیان برابری اور عدل و انصاف قائم کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایات کے مطابق، جب ان کے والد نے انہیں ایک غلام تحفے یا عطیہ میں دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنانا چاہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے اپنی تمام اولاد کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے۔ جب انہوں نے نفی میں جواب دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر اسے واپس لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف قائم رکھو۔ یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ والدین کو اپنے تمام بچوں کے ساتھ یکساں اور مساوی سلوک کرنا چاہیے، اور کسی بھی معاملے یا تحفے میں امتیازی سلوک سے بچنا چاہیے تاکہ خاندانی نظام میں عدل برقرار رہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِهِ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا ، فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَارْجِعْهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو ان کے باپ بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور کہا: میں نے اپنے اس لڑکے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے اپنے اور لڑکوں کو بھی ایسا ہی ایک غلام دیا ہے۔“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے بھی پھیر لے۔“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، فَفِي حَدِيثِهِمَا أَكُلَّ بَنِيكَ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَكُلَّ وَلَدِكَ وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ بَشِيرًا جَاءَ بِالنُّعْمَانِ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : " وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا الْغُلَامُ ؟ قَالَ : أَعْطَانِيهِ أَبِي ، قَالَ : فَكُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَرُدَّهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے باپ نے ان کو ایک غلام دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ کیسا غلام ہے؟“، انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ کو دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باپ سے کہا: ” کیا تو نے نعمان کے سب بھائیوں کو ایسا ہی غلام دیا ہے جیسا نعمان کو دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے پھیر لے۔“

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ : " انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي ، وَقَالَتْ أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلَهُ إِخْوَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی عورت نے اپنے خاوند سے کہا: یہ غلام میرے بیٹے کو ہبہ کر دے اور گواہ کر دے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ان سب کو یہی دیا ہے جو اس کو دیا؟“ وہ بولا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو یہ درست نہیں اور میں تو گواہ نہیں بنوں گا مگر حق پر۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أنهما حدثاه ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، " أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا ، فَقَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْجِعْهُ " .

نعمان بن بشیر روایت:

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا` ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر (ان سے بھی) واپس لے لے۔

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً ، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ " .

نعمان بن بشیر روایت:

´ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا` وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ يَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " فَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " ، قَالَ : " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " فَلَا إِذًا " .

نعمان بن بشیر روایت:

ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں“؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب ایسا مت کرو“۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَاهُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ غُلَامًا وَأَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَارْدُدْهُ " .

نعمان بن بشیر روایت:

´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب اس کو واپس لے لو“۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا ، فَقَالَ : أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ ، قَالَ : لَا قَالَ : فَارْدُدْهُ " ،

نعمان بن بشیر روایت:

میرے والد مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کو یہ غلام تحفہ میں دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا سب بیٹوں کو تو نے تحفہ دیا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے واپس لے لو۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ ، فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ " فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ .

نعمان بن بشیر روایت:

میرے باپ نے کچھ مال اپنا مجھے ہبہ کیا۔ میری ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا بولی: میں جب خوش ہوں گی تو اس پر گواہ کر دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ میرا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی سب اولاد کو ایسا ہی دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور انصاف کرو اپنے مال میں۔“ پھر میرے باپ نے وہ ہبہ پھیر لیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں