احرام کے احکام

کل احادیث 746

احرام کے احکام اور نیت کے بارے میں مستند احادیث

یہ مبارک احادیث ہمیں احرام کے احکام، اس کی مختلف حالتوں اور نیت کے طریقے کے بارے میں تفصیل فراہم کرتی ہیں۔ ان احادیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام، بشمول حضرت علی اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم، سے ان کے احرام باندھنے کی نیت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نیت کے ساتھ احرام باندھتا ہے، اس کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر اس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو، تو وہ قربانی کرنے تک احرام کی حالت میں ہی رہے گا اور اسے نہیں کھول سکتا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا۔ اس کے برعکس، جن صحابہ کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف اور سعی کے بعد احرام کھول کر حلال ہونے کا حکم دیا۔ یہ احادیث حج اور عمرہ کے دوران احرام کے مسائل کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم اور مستند رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

´ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی، ان سے سالم نے کہا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا تھا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات متعین کر دیئے تھے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّأْمِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ ، وَأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : زَعَمُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ : وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ .

´(دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیاکہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے مہیعہ یعنی حجفہ اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے احرام یلملم سے باندھیں لیکن میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي ، قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ، وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَهُمْ , وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ " .

´ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ` معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی (وادی عقیق) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھایا گیا۔ (جس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تھا کہ آپ اس وقت ”بطحاء مبارکہ“ میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ سالم نے ہم کو بھی وہاں ٹھہرایا وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں عبداللہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے یعنی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے۔ وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف میں ہے جو نالے کے نشیب میں ہے۔ اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ (وادی عقیق مدینہ سے چار میل بقیع کی جانب ہے)۔

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا " .

´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے فرمایا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبید کی حالت میں لبیک کہتے سنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : " مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ , يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ " .

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، کہ وہ کہہ رہے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے قریب ہی پہنچ کر احرام باندھا تھا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنَ الْحَجِّ ؟ " ، فَقَالَتْ : أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ ، وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ ، قَالَ : " فَأَحْرِمِي ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ " .

´ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: ”پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے“؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ،

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ دے رہے تھے۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ ، فَكَيْفَ أَفْعَلُ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُظِلُّهُ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ ، فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّكَ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، وَقَالَ : هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں