شیطان کے وسوسے
کل احادیث 11
شیطان کے وسوسے اور مسلمانوں کو بھڑکانے سے متعلق احادیث
ان احادیث مبارکہ میں شیطان کے وسوسوں، انسان پر اس کے اثرات اور باہمی فتنہ و فساد پیدا کرنے کی سازشوں کو واضح کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار فرمایا کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو کسی بھی قسم کی بدگمانی یا وسوسے سے بچانے کے لیے فوراً حقیقت واضح فرما دی۔ ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ شیطان جزیرہ عرب میں مسلمانوں سے اپنی پرستش کروانے سے تو مایوس ہو چکا ہے، لیکن وہ اب انہیں آپس میں بھڑکانے اور لڑانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ یہ احادیث ہمیں وسوسوں اور باہمی پھوٹ سے بچنے کی ہدایت دیتی ہیں۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
اعمش سے بھی اسی سند کے ساتھ روایت ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ ، فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ .
ترجمہ وہی ہے جو گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”ہر ایک آدمی کے ساتھ اس کا ساتھی شیطان اور ساتھی فرشتہ مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا ، قَالَتْ : فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ ، فَرَأَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ ؟ " ، فَقُلْتُ : وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ ؟ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے نکلے رات کو، ان کو غیرت آئی (وہ یہ سمجھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی زوجہ کے پاس تشریف لے گئے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میرا حال دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا تجھ کو اے عائشہ! کیا تجھ کو غیرت آئی؟“ میں نے کہا: مجھے کیا ہوا جو میری سی زوجہ (کم عمر، خوب صورت) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے خاوند پر رشک نہ آئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”کیا تیرا شیطان تیرے پاس آ گیا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: آپ کے ساتھ بھی ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میرے پروردگار نے میری مدد کی حتیٰ کہ میں سلامت رہتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی نہیں مگر اس کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی نزدیک رہنے والا مقرر کیا گیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یا رسول اللہ شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ نے اس پر میری مدد کی ہے تو میں سلامت رہتا ہوں اور نہیں بتلاتا مجھ کو کوئی بات سوائے نیکی کے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " ،
جابر روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”شیطان ناامید ہو گیا ہے اس بات سے کہ اس کو نمازی لوگ عرب کے جزیرہ میں پوجیں (جیسے جاہلیت کے زمانے میں پوجتے تھے)۔ لیکن شیطان ان کو بھڑکا دے گا (آپس میں لڑا دے گا)۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
جابر روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ابلیس کا تخت سمندر پر ہے وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے (لوگوں کو بہکانے کے لیے) تو بڑا شخص اس کے پاس وہ ہے جو بڑا فتنہ کرے۔“ (یعنی لوگوں کو بہت بھڑکائے)۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ، قَالَ : ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ، قَالَ : فَيُدْنِيهِ مِنْهُ ، وَيَقُولُ : نِعْمَ أَنْتَ " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو عالم میں فساد کرنے بھیجتا ہے۔ سو اس سے مرتبہ میں زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو بڑا فساد ڈالے۔ کوئی شیطان ان میں سے آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں کام کیا (یعنی فلاں سے چوری کرائی، فلاں کو شراب پلوائی) تو شیطان کہتا ہے: تو نے کچھ بھی نہیں کیا۔ پھر کوئی آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ جدائی کرا دی اس میں اور اس کی جورو (بیوی) میں تو اس کو اپنے پاس کر لیتا ہے کہ ہاں تو نے بڑا کام کیا ہے۔“اعمش نے کہا: اس کو چمٹا لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا يَقْلِبُهَا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ ، عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، فَقَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " .
صفیہ روایت:
وہ رمضان کے آخری عشرہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں، تو دو انصاری آدمی ادھر سے گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی سوچ کی ضرورت نہیں، یہ تو (میری بیوی) صفیہ بنت حیی (رضی اللہ عنہا) ہیں۔ ان دونوں صحابیوں نے عرض کیا، سبحان اللہ! یا رسول اللہ! ان پر آپ کا جملہ بڑا شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ . ح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَعِنْدَهُ أَزْوَاجُهُ فَرُحْنَ ، فَقَالَ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ : لَا تَعْجَلِي حَتَّى أَنْصَرِفَ مَعَكِ ، وَكَانَ بَيْتُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ، فَلَقِيَهُ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَنَظَرَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَجَازَا ، وَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَالَيَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، قَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُلْقِيَ فِي أَنْفُسِكُمَا شَيْئًا " .
صفیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں (اعتکاف میں) تھے آپ کے پاس ازواج مطہرات بیٹھی تھیں۔ جب وہ چلنے لگیں تو آپ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جلدی نہ کر، میں تمہیں چھوڑنے چلتا ہوں۔ ان کا حجرہ دار اسامہ رضی اللہ عنہ میں تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو دو انصاری صحابیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی۔ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور جلدی سے آگے بڑھ جانا چاہا۔ لیکن آپ نے فرمایا ٹھہرو! ادھر سنو! یہ صفیہ بنت حیی ہیں (جو میری بیوی ہیں) ان حضرات نے عرض کی، سبحان اللہ! یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا کہ شیطان (انسان کے جسم میں) خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے خطرہ یہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی (بری) بات نہ ڈال دے۔
