قسموں کے احکام

کل احادیث 111

قسموں کے احکام اور حلال و حرام سے متعلق صحیح احادیث

ان احادیث مبارکہ میں قسموں کے احکام اور حلال و حرام کے اہم مسائل کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد نوش فرمانے کا واقعہ مذکور ہے، جہاں آپ نے ازواج مطہرات کی گفتگو کی وجہ سے حلال شہد کو اپنے اوپر دوبارہ نہ پینے کا عزم فرمایا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیات نازل فرمائیں کہ اللہ کی حلال کردہ چیز کو اپنے اوپر حرام نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایات سے یہ شرعی مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دے تو یہ ایک قسم شمار ہوتی ہے جس کا شرعی کفارہ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ صحابہ کرام کے مطابق ازدواجی تعلقات میں طویل تعطل یا قسم کے چار ماہ گزرنے پر قاضی کے سامنے معاملہ پیش کرنے کی وضاحت بھی ملتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ ، ثُمَّ أُتِيَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا ، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا : وَاللَّهِ لَا يُبَارَكُ لَنَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا ، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُذَكِّرُهُ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، أَوْ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي " .

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .

‏‏‏‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔

وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح ، وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ،

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا .

‏‏‏‏ وہی جو اوپر گزرا اس میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں بھولا قسم کو۔“

وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ فَلْيُكَفِّرْ يَمِينَهُ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ .

‏‏‏‏ اس میں یہ ہے کہ کفارہ دے قسم کا اور جو کام بہتر ہے وہ کرے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ فِي آخَرِينَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ذِكْرُ الْإِمَارَةِ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ ، فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا لِيَبَرَّ ، يَعْنِي : الْكَفَّارَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں