آزاد غلام کی میراث

کل احادیث 29

آزاد غلام کی میراث اور ولاء کا شرعی حکم

ان احادیث مبارکہ میں آزاد کردہ غلام کی میراث اور ولاء (وراثت کا حق) کے بنیادی شرعی قوانین کو واضح کیا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنا چاہا، تو ان کے سابقہ مالکوں نے یہ شرط رکھی کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باطل شرط کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا کہ 'ولاء صرف اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے'۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ جو بھی شرط کتاب اللہ کے اصولوں کے خلاف ہو، وہ قطعاً باطل ہے، چاہے وہ سو بار ہی کیوں نہ لگائی جائے۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ حقوق و وراثت کے معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود اور شرائط ہی معتبر اور واجب التعمیل ہیں۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا عَنْ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ .

‏‏‏‏ ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں اتنا زیادہ ہے کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا۔ (جب وہ آزاد ہوئی خواہ اس سے نکاح قائم رکھے یا فسخ کرے) اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا (یعنی شوہر کو ناپسند کیا) اور جو وہ آزاد ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اختیار نہ دیتے اور اس روایت میں «أَمَّا بَعْدُ» کا لفظ نہیں ہے۔

وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ الثَّقَفِيَّ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ : إِلَّا الْبَيْعُ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْهِبَةَ .

‏‏‏‏ اس حدیث کی دوسرے اسناد نقل کی گئی ہیں۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا ، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

ابوہریرہ روایت:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا اس کے مالکوں نے نہ مانا مگر اس شرط سے قبول کیا کہ ولاء ان کو ملے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے ارادے سے باز نہ آ اور ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ ، وَلَا صَرْفٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو مولیٰ بنائے بغیر اجازت اپنے مالکوں کے اس پر لعنت ہے اللہ اور اس کے فرشتوں کی نہ اس کا فرض قبول ہو گا نہ نفل۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ ، وَلَا صَرْفٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مولیٰ بنائے کسی قوم کے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی قیامت کے دن نہ اس کا نفل قبول ہو گا، نہ فرض۔“

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ ، وَعَنْ هِبَتِهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً لِتُعْتِقَهَا ، فَقَالَ أَهْلُهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک باندی خرید کر اسے آزاد کرنا چاہا، اس باندی کے مالکوں نے کہا کہ اس شرط پر ہم معاملہ کر سکتے ہیں کہ ولاء ہمارے ساتھ قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ان کی اس شرط کی وجہ سے تم نہ رکو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ " ، قَالَ مُسْلِم : النَّاسُ كُلُّهُمْ عِيَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ولاء کی بیع اور ہبہ سے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ ، فَأَعِينِينِي ، فَقَالَتْ : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِهِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ : أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ .

عائشہ روایت:

بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا (کیسی لغو بات ہے) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں