سنن نسائی حدیث ۱۳۶۷ - خندق کے دن عصر کے بعد مغرب
فوت شدہ نماز پہلے ادا کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۳۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۶۷
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ , جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ , وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ , فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا " , فَنَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا , فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے“، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود (پہلے) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم غزوہ خندق کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی عصر نہیں پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ بطحان کی طرف اترے، وضو کیا، صحابہ نے بھی وضو کیا، پھر سورج غروب ہونے کے بعد پہلے عصر پڑھی اور اس کے بعد مغرب پڑھی۔ اس روایت میں قضا نماز، نماز کی ترتیب اور وقت نکل جانے کے بعد نماز ادا کرنے کا واقعہ صاف الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وقت نکل جانے کے بعد بھی نماز ادا کی گئی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عصر پڑھی پھر مغرب پڑھی۔
- صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا اور نماز ادا کی۔
- روایت میں خندق کے دن کی سخت صورت حال کا ذکر ہے۔
