حدیث ۱۴۵۷
سنن نسائی : ۱۴۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۵۷
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا قَدِمَتْ مَكَّةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ , قَالَ : " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ وَمَا عَابَ عَلَيَّ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے، اور میں نے پوری پڑھی ہے، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم نے اچھا کیا“، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی۔
