حدیث ۱۹۳۳
سنن نسائی : ۱۹۳۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۳۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ , قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قال : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ، الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا وَأَذَاهَا ، وَالْفَاجِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، (کیونکہ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے (اللہ کے) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پا لیتے ہیں“۔
