حدیث ۲۰۶۴
سنن نسائی : ۲۰۶۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۶۴
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , تَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي ، أَيْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ ؟ قَالَ : " قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
´اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے (اور) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہو گئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا: اللہ تجھے برکت دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: (آپ نے فرمایا تھا:) ”مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہو گی“۔
