حدیث ۲۱۸۱
سنن نسائی : ۲۱۸۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۸۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : " أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ ، وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ " .
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ` میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے؟ تو انہوں نے کہا: آپ (اس تسلسل سے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے، اور آپ (اس تسلسل سے) بلا روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ بغیر روزے ہی کے رہیں گے، آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے، سوائے چند دنوں چھوڑ کے آپ پورے شعبان ہی روزے رکھتے۔
